Ho Gaya Ishq Nakam , Kuch Tu Huwa

ہو گیا عشق ناکام ،کُچھ تو ہُوا
آ گیا سب کو آرام، کُچھ تو ہُوا
 
چلئے خوُش کُن نہیں ہے تو غمگیں سہی
میری چاہت کا انجام کُچھ تو ہُوا
 
ہم نے چَلہ کشی کی تھی جس کے لئے
آگیا اُس کا پیغام، کُچھ تو ہوُا
 
ہو گیا وہ تو آزاد ہر اک طرح
آ گیا مُجھ پہ الزام ،کُچھ تو ہُوا
 
میں نے کر لی رقیبوں سے اب دوستی
اس طرح ہی سہی کام کُچھ تو ہُوا
 
آخری بار اُس نے پُکارا مُجھے
آخرش بر سرِ ّعام کُچھ تو ہُوا
 
دل کے مندر کے سارے صنم ڈھا دئیے
ایسی باتوں سے وہ رام کُچھ تو ہُوا